38

طلوعِ صبح کا آغاز ہوچکا ہے مگر ہمیں تو اب بھی اندھیرا دکھائی دیتا ہے

طلوعِ صبح کا آغاز ہوچکا ہے مگر
ہمیں تو اب بھی اندھیرا دکھائی دیتا ہے

ہم نےبارہویں جماعت میں نصاب اردو میں سعادت حسن منٹو کا ایک شاہکار افسانہ نیا قانون کے نام سے پڑھا تھا۔ جو ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے-

کوچوان منگو (افسانے کا مرکزی کردار جو وہ ایک محب وطن شہری ہے جو اپنے مرتبے کے لوگوں میں بہت دانشور سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سیاسی شعور بیدار ہے اور یہ احساس کہ وہ ایک غلام قوم کا فرد ہے اس کے دل میں نفرت کا سمندر بن چکا ہے)۔ایک دن ٹانگے کی سواریوں کی گفتگو سے اسے کسی نئے قانون یعنی (انڈیا ایکٹ) کے نفاذ کا علم ہوتا ہے اور اسے یہ سن کر بے انتہا خوشی محسوس ہوتی ہے کہ پہلی اپریل کو اس قانون کے نفاذ کے نتیجے میں وہ اور اس کا ملک آزاد ہوجائیں گے۔ اس خبر کے ساتھ اس کے ذہن میں ایک خوشگوار انقلاب کا تصور انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔ آخر یکم اپریل کا سورج اس کے تصورکے مطابق حریت کے متوالوں کے لئے نویدِ سحر لے کر طلوع ہوتا ہے۔ وہ اپنے حسین تصورات میں گم اپنے تانگے پر شہر والوں کی بدلی کیفیات دیکھنے کے لئے نکلتا ہے مگر اسے کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ گھومتے گھومتے وہ ایک جگہ سواری کی تلاش میں رک جاتا ہے۔

ایک انگریز سواری اسے آواز دیتی ہے۔ قریب پہنچ کر وہ اسے پہچان لیتا ہے کہ ایک بار پہلے بھی اس کی تکرار اس سے ہوچکی تھی۔ وہ اس سے بہت حقارت بھرے لہجے میں پوچھتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے۔ انگریز بھی منگو کو پہچان لیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ پچھلی مرتبہ کی طرح کرائے پر اعتراض تو نہیں کرے گا۔ انگریز کا فرعون صفت رویہ اس کے دل میں آگ لگا دیتا ہے۔ انگریز منگو کے اس رویے کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکا۔ اور اس نے منگو کو چھڑی کے اشارے سے تانگے سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ جواباً اس نے انگریز کو تانگے سے اتر کر بے تحاشا پیٹنا شروع کردیا۔

متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس پر دیوانوں کی سی حالت طاری ہے تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کردیا۔ اسی چیخ و پکار نے منگو کا کام اور تیز کردیا جو گورے کو جی بھر کر پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ کہتا جارہا تھا:

پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں: اب ہمارا را ج ہے بچہ۔

لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ قانون میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس بات کا احساس اسے تب ہوا جب اسے ایک گورے کو پیٹنے کے جرم میں حوالات میں بندکر دیا گیا۔ راستے اور تھانے کے اندر وہ نیا قانون، نیا قانون پکارتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔

آج 19 جنوری 2013ء کو ہم (منگو) بھی یہ سوچ کر گھر سے نکلے کے آج سے نیا قانون لاگو ہوگیا ہے اور اب ہمارا راج چلے گا۔

راستے میں ہر جگہ سکون نظر آیا، دل کو اطمینان ہوا کہ چلو اتنی دہشت گردی سے نجات ملی۔ کچھ جگہ پر فوجی جوان (رینجرز) بھی مستعد کھڑے نظر آئے، ایک چورنگی کے پاس پولیس والے کی مستعد وین بھی کھڑی نظر آئی۔ دل باغ باغ، بلکہ باغ وبہار ہوگیا بے اختیار جی چاہا کہ پولیس والوں کا منہ چوم لیں مگر پھر خیال آیا کہ یہ مشرقی ملک ہے اور کہیں ہم خود بھی نئے قانون کے تلے دھرے نہ جائیں! لہذا ،آفس کی طرف رواں دواں رہے۔

آفس پہنچے تو بہت حیرت ہوئی ؛کے کہیں آج جلدی تو نہیں آگئے ؛لیکن گھڑی وہی نو (9 ) بجارہی تھی۔اس ہی شش و پنج میں اردلی (PEON) کو بلایا اور پوچھا کہ وقت کیا ہوا ہے ، اس نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے ہمارے سر پر پگڑی بندھی ہو اور ابھی بارہ (12) بج رہے ہوں، مگر شاید وہ ہمارے رعب سے یہ بول نہ سکا اور کہا جناب صبح کے 9 بجے ہیں۔ہم نے مزید پوچھا کہ اسٹاف کہاں ہے اس نے پھر پہلی والی نظر سےہمیں بغور دیکھا اور اپنی گھڑی کو بھی چیک کیا کہ کہیں واقعی بارہ تو نہیں بج رہے اور پھر کہا کہ جناب، کل کااسکور بھاری تھا اس لئے مقامی سیاسی جما عت نے آج ہڑتال کی کال دی ہے ۔

بس جناب یہ سننا تھا کہ پچھلے 5 دنوں کے سارے لانگ مارچ اور دھرنے کا نشہ فورا ہی اتر گیا اور ذہن میں یہ فقرہ گونجنے لگا۔

لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ قانون میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس بات کا احساس اسے تب ہوا جب اسے ایک گورے کو پیٹنے کے جرم میں حوالات میں بندکر دیا گیا۔ راستے اور تھانے کے اندر وہ نیا قانون، نیا قانون پکارتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔

(از:منگو)

(مورخہ:19جنوری 2013ء)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں